نئی دہلی،11/جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی) جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں ہوئے 5 جنوری کو تشددمیں جہاں دہلی پولیس نے جے این یو اسٹوڈنٹ یونین (ایس یو) کی صدر آئیشی گھوش سمیت 10 طلبہ کی شناخت کا دعویٰ کیاہے وہیں ہندی نیوز چینل آج تک نے اسٹنگ آپریشن کے ذریعہ نقاب پوشوں اور دہلی پولیس کو بے نقاب کردیاہے- آج تک کے”اسٹنگ آپریشن جے این یو ٹیپس“ میں اپنے آپ کو اے بی وی پی کارکن کہنے والے اکشت نے اقرار کیاہے کہ تشدد میں وہ شامل تھا اور تشدد کے درمیان وہ ہیلمیٹ پہنے ہوئے تھا- انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جے این یو کے باہر سے 20 افراد کو بلایا گیا تھا-اکشت جے این یو میں بی اے (فرنچ) فرسٹ ایئر کا طالب علم ہے- اسٹنگ آپریشن میں اسے یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں ڈنڈاتھا،جس سے بہت سے لوگوں کو پیٹا- اکشت اوستھی نے بتایا کہ پہلے پیریار میں حملہ کیا گیا، اس کے بعد لوگ وہاں سے سابرمتی ہاسٹل پہنچ گئے- اکشت نے اعتراف کیا کہ اس نے ہاسٹل میں کئی لڑکوں کو مارا- ایک لڑکے کی داڑھی تھی اور وہ کشمیریوں کی طرح نظر آرہا تھا- میں نے بھی لات ماری اور وہاں دروازہ توڑا- حملے کی منصوبہ بندی کے بارے میں، اکشت نے بتایا کہ اس نے اے بی وی پی کی تنظیم کے سکریٹری کو فون کیا،اس کے ساتھ ملکرمکمل نصوبہ بندی کی-نیز اکشت نے یہ بھی کہاکہ اس پورے واقعہ کو اس نے ایک کمانڈر کی طرح انجام دیا-اے بی وی پی کی جنرل سکریٹری ندھی ترپاٹھی نے کہاہے کہ اکشت کا تعلق اے بی وی پی سے نہیں ہے-محض نام لینے سے کوئی تنظیم کا رکن نہیں بن جاتا-آج تک کے اس آپریشن سے بی جے پی میں ہل چل مچ گئی ہے-پولیس کے ان دعوؤں پر جے این یو کے 4 طلباء یونین عہدیداروں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران سوال اٹھائے- جے این یو ایس یو کی صدر آئشی گھوش نے پولیس پر اتوار کے حملہ آوروں کو جان بوجھ کر بچانے کا الزام عائد کیا- انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس بھی بہت سے شواہد موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تشدد کون کر رہا تھا-جے این یو ایس یو نے تشدد کے بارے میں پولیس کے دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ جب تشدد کے دن جے این یو ایس یو کی صدر نے مقامی ایس ایچ او کو نقاب پوش حملہ آوروں کے ہنگامے کے بارے میں 3 بجے آگاہ کیا تھا تو پولیس کیوں نہیں پہنچی- انہوں نے پوچھا کہ شام کے وقت جب حملہ آور اندر گھوم رہے تھے اور طلبہ کو مار رہے تھے تو پولیس 2 گھنٹے تک اندر آنے کی بجائے باہر کیوں کھڑی رہی-آج کی پریس کانفرنس میں دہلی پولیس نے اتوار کو ہوئے تشدد کی بجائے 4 جنوری کو جے این یو کے سرور روم میں توڑ پھوڑ کے واقعے پر ہی اپنی ساری توجہ مرکوز رکھی اور دعویٰ کیا کہ 4 جنوری کو 4 طلبا تنظیموں ایس ایف آئی، اے آئی ایس اے، اے آئی ایس ایف اور ڈی ایس ایف کے طلباء نے حملہ کیا تھا- پولیس نے بتایا کہ وہ تمام طلبہ کے رجسٹریشن کی مخالفت کر رہے تھے- اس واقعے کے بعد، نقاب پوش افراد نے اگلے ہی دن حملہ کر دیا-پولیس نے بتایا کہ 5 جنوری کو نقاب پوش حملہ آوروں کو معلوم تھا کہ کس کمرے میں جانا ہے اور طلباء کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا- دریں اثنا، پولیس نے یہ بھی کہا کہ 5 جنوری کو احاطے میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے کام نہیں کر رہے تھے-واضح رہے کہ اتوار کی شب جے این یو میں طلبہ پر نقاب پوش حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا، جس میں جے این یو طلباء یونین کی صدر آئشی گھوش سمیت متعدد طلباء اور کچھ پروفیسر بھی بری طرح زخمی ہوئے تھے- طلباء کا الزام ہے کہ نقاب پوش حملہ آور جنہوں نے کچھ پروفیسروں کے ساتھ جے این یو پر حملہ کیا تھا، وہ دائیں بازو آر ایس ایس کی طلباء تنظیم اے بی وی پی سے وابستہ تھے- طلباء کا الزام ہے کہ حملے کی بار بار اطلاعات کے باوجود پولیس پورے حملے کے دوران جے این یو کے گیٹ پر کھڑی رہی اور اندر داخل تب ہوئی جب حملہ آور اپنا کام کر کے نکل گئے-